تا کجا از چشم زارم خون ناب آید بروں
کاش از پہلو دل پر اضطراب آید بروں
کب تک میری چشم زار سے خالص خون رواں ہوگا، کاش میرے پہلو سے یہ بےقرار و مضطرب دل باہر نکل آئے۔
در فراقت زندگی تلخست اے شیریں دہاں
وقت آں آمد کہ جاں از تن شتاب آید بروں
اے شیریں دہن تیری جدائی میں زندگی تلخ ہو گئ ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ روح بدن سے جلد باہر نکل آئے۔
در خیال زلف پیچانش چناں محوم کہ آہ
از دل بے تاب با صد پیچ و تاب آید بروں
میں اس کی پیچیدہ زلفوں کے خیال میں یوں محو ہوں کہ افسوس میرے دلِ بےتاب سے سو طرح کا پیچ و تاب باہر نکلتا ہے۔
دیدہ گریاں سینہ بریاں دل تپاں در عشق اوست
کاش مرگ آید کہ جانم زیں عذاب آید بروں
اس کے عشق میں میری چشم گریاں، سینہ سوزاں اور دل تپ رہا ہے،
کاش موت آ جائے تاکہ میری جان اس عذاب سے نجات پا جاۓ۔
زندگانی چوں حبابے رفت و آہے بر نہ خاست
کے صدائے در شکستن از حباب آید بروں
زندگی بلبلے کی طرح ختم ہو گئی اور ایک آہ بھی نہ نکلی، بلبلے کے ٹوٹنے کی آواز کہاں بلبلے سے باہر آتی ہے؟
بہ گزرد گر آں بت ترسائے من سوئے حرم
بانگ لبیک از دل ہر شیخ و شاب آید بروں
اگر میرا وہ حسین معشوق میرے ساتھ کعبہ کی طرف سے گزر جائے،
تو ہر بوڑھے اور جوان کے دل سے لبیک کی صدا بلند ہو جاۓ۔
بسملاؔ مطرب اگر یک رہ بہ خواند ایں غزل
نغمۂ احسنت از چنگ و رباب آید بروں
بسملؔ اگر مطرب ایک بار یہ غزل گا دے، تو چنگ و رباب سے آفرین کی صدا برآمد ہوگی۔
- کتاب : نغمات سماع (Pg. 304)
- مطبع : نور الحسن مودودی صابری (1935)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.