Sufinama
noImage

شاہ رکن الدین عشقؔ

1715 - 1788 | بہار, بھارت

تخلص : 'عشقؔ'

اصلی نام : شیخ رکن الدین

پیدائش :بھارت

وفات : بہار, بھارت

شاہ رکن الدین عشقؔ سلسلۂ ابوالعلائیہ سے مناسبت رکھتے تھے۔ سلسلۂ ابوالعلائی در اصل سلسلۂ نقشبندیہ کے اصول اور تعلیم کا مختصر نصاب ہےاور اس سلسلہ میں عشق و توحید کی تعلیم لازمی ہے۔شیخ رکن الدین نام مرزا لقب اور عشقؔ تخلص تھا۔ عوام میں شاہ گھسیٹا کے نام سے مشہور ہیں۔ شاہ رکن الدین کے نانا شاہ محمد فرہاد دہلوی سیدنا ابوالعلا کے مرید و خلیفہ میر سید دوست محمد کے مرید تھے۔ آپ کی ولادت دلی میں 1127 ہجری مطابق 1715 عیسوی میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم سلسلہ کے مطابق روحانی اور دینی ہوئی۔ درّانی کے حملہ نے دہلی کو تباہ و برباد کر دیا تھا اسی حرج و مرج کے بیچ لوگ دہلی کو خیرباد کہنے پر مجبور ہوئے اسی باعث شاہ رکن الدین عشقؔ بھی مرشدآباد چلے گئے اور نواب میر قاسم کے یہاں ہزار سوار کی افسری کے منصب پر فائز ہوئے۔

فوجی ملازمت ان کو پسند نہ آئی اور یہ عظیم آباد (پٹنہ) تشریف لے گئے۔ وہاں منعم پاک باز کی مجلس میں جانے لگے۔ چوں کہ بچپن سے ان کو اپنے نانا کے مرید و خلیفہ برہان الدین خدا نما سے بیعت کرنے کی خواہش تھی چنانچہ منعم پاک باز سے اجازت حاصل کر خالص پور متصل لکھنؤ گئے اور برہان الدین خدا نما  سے بیعت ہوئے۔ شرف بیعت حاصل کر دوبارہ عظیم آباد واپس چلے گئے ۔ عظیم آباد اس قدر ان کو پسند آیا کہ اس شہر کو مستقل مسکن بنایا۔ رشد و ہدایت کے لیے شاہ گھسیٹا تکیہ پر ایک خانقاہ کی بنیاد ڈالی اور اب یہ تکیۂ عشق کے نام سے مشہور ہے۔ آپ کا وصال 1203 ہجری مطابق 1788 عیسوی میں تکیۂ عشق میں ہوا اور اسی خانقاہ کی محبوب خاک آخری آرام گاہ بنا۔

غلام حسین شورشؔ بھی حضرت کے بڑے معتقد اور تربیت یافتہ تھے۔ حضرت عشق ہی کے ایما پر اپنا مشہور تذکرہ ’تذکرۂ شورش‘ لکھا ہے۔ جس میں شاہ رکن الدین کے حالات اور انتخاب کلام پر بحث کی ہے۔

عشق کے رشد و حدایت کا دائرہ اگر وسیع ہے تو ان کے فنی و لسانی اثرات کا سلسلہ بھی کچھ محدود نہیں ۔ مرزا محمد علی فدوی جیسے جید شاعر ان کے شاگرد رشید رہے ہیں۔

ان کے تصانیف میں سات سو صفحات پر مشتمل ایک اردو کا کلیات موجود ہے۔ ایک دیوان فارسی کا اور چند قلمی رسالے جو تصوف پر لکھے گئے ہیں۔ شاہ رکن الدین عشقؔ کی شاہکار یادگار ہیں۔ ان میں سے ایک متصوفانہ رسالہ موسوم بہ ’امواج البحار‘ بھی ہے۔