افسانچے کو افسانے کا افسانہ بھی کہا جاتا ہے اور اب یہ اردو ادب میں ایک باقاعدہ منظم اور ٹھوس تخلیقی صنف کی حیثیت سے قائم ہو چکا ہے۔ زیر نظرمجموعہ پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی کی تخلیقی کاوش ہے۔ کیفی صاحب اردو ادب میں کسی بھی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ ان کے مطالعے کی وسعت انہیں ایک الگ صف میں کھڑا کرتی ہے۔ وہ پائے کے ایک ماہر لسان ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی متحمل و بردبار شخصیت کے مالک تھے۔ زیر نظر مجموعے میں ان کے احساسات و جذبات کو جس سلیقے سے پرویا گیا ہے اسے پڑھ کر یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ ان کے یہاں تفریح کم، تعمیر کا پہلو زیادہ ہے۔ ان کہانیوں میں ایک انوکھی دلکشی اور بے پایاں جاذبیت ہے جسے پڑھنے والا یوں ہی سرسری طور پر نہیں گزر سکتا۔