اخلاق ناصری انفرادی ،اجتماعی اور خانوادگی اخلاقیات کی ایک جامع ترین کتاب ہے۔ جس کو خواجہ نصیر الدین طوسی نے امراض کے معالجے ، مراتب سعادت کے بیان ، اولاد اور مال و دولت کی تدبیر ، محبت وصداقت کی فضیلت اور حکومت داری کے آداب اور لوگوں کے ساتھ معاشرت جیسے اخلاقی موضوعات سے آراستہ کیا ہے ۔ اخلاق ناصری کی زبان فلسفیانہ و عالمانہ اصطلاحات سے پر ہے۔ یہ کتاب در اصل ابو علی مسکویہ کی کتاب تہذیب الاخلاق کا ترجمہ ہے ۔ کتاب فلسفیانہ مطالب سے پر ہے اسی لئے اس میں خارجی استدلال بہت ہی کم نظر آتے ہیں ۔ فارسی زبان کے طالبعلموں کے لئے یہ ایک بیش قیمت تحفہ ہے جسے ہر زمانے میں وہی اہمیت حاصل رہی ہے جو اس کے ابتدائی زمانے میں تھی۔