خواجہ میر درد دہلوی فارسی اور اردو کے اہم شعرا میں شامل ہیں۔ اردو اور فارسی دونوں میں مختصر دیوان میر درد کی یادگار ہیں۔ نثر میں سات تصانیف فارسی زبان میں ہیں۔ پیش نظر خواجہ میر درد کی پہلی فارسی تصنیف"اسرار الصلوۃ" کا اردو ترجمہ ہے۔ جو انھوں نے پندرہ برس کی عمر میں رمضان میں بحالت اعتکاف لکھا تھا۔ اس رسالے میں نماز کے ارکان اور اس کے متعلق اہم نکات کو بیان کیاگیا ہے۔ نماز کے سات رکن ہیں اس مناسبت سے رسالہ بھی سات فصلوں میں منقسم ہے۔ ہر باب کا آغاز فصل کی جگہ "سر" کا استعمال ہوا ہے۔ رسالے میں جگہ جگہ قرآنی آیات اور احادیث کے استعمال سے ظاہر ہوتا ہے کہ میر دردکو علم الکلام اور دیگر علوم پر قدرت حاصل تھی۔ رسالے کے اختتام پر ایک رباعی بھی شامل ہے۔ درد نے ارکان نماز کے سات ہونے کا نکتہ یہ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالی نے اپنی حکمت بالغہ کے کمال سے اس کائنات کی تخلیق سات چیزوں پر کی ہے۔ اسی لیے سات افلاک، سیارے سات، طبقات الارض سات، شب و روز سات ہیں۔ اس لیے نماز کے اراکین بھی سات ہیں۔ عادل اسیر دہلوی نے" اسرار الصلوٰۃ " کا اردو ترجمہ آسان اور عام فہم زبان میں کیا ہے۔
Jashn-e-Rekhta | 13-14-15 December 2024 - Jawaharlal Nehru Stadium , Gate No. 1, New Delhi
Get Tickets