آزادیِ نسواں اکبر الہ آباد ی کا بھی موضوعِ خاص ہے۔ اکبر قدیم روایات کے پاسبان و حامی تھے یہی وجہ ہے کہ وہ دورِ جدید کی تبدیلیوں کو برداشت نہیں کر پاتے اور جدید تہذیب اور نام نہاد تعلیم نسواں کی دلدادہ عورتوں کی بھی خبر لی ہے۔ اکبر کا موضوع ایسی عورتیں ہیں جو مغربیت کا دم بھرتی ہیں اور اس دھارے میں بہتی چلی جاتی ہیں۔ اکبرنے اپنی شاعری کے ذریعے اعلیٰ فکر کا اظہار کیا اور مغربی تہذیب و تمدن کا جو سیلاب بہتا چلا آرہا تھا،اس کے آگے بند باندھنے کی کوشش کی۔ اکبر نے اپنی شاعری میں جا بجا عورتوں کی تعلیم پر طنز کیے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ تعلیم خصوصاً انگریزی تعلیم عورتوں کو بے شرم بنا دے گی۔ وہ گھر کی چار دیواری میں قید رہنے کے بجائے آزادانہ گھومتی پھریں گی یہی وجہ تھی کہ وہ عورتوں کو انگریزی تعلیم دینے کے سخت مخالف تھے جس کا اظہار وہ اپنے اشعار میں کرتے نظر آتے ہیں۔ اکبر جب تعلیم نسواں یا عورتوں کی آزادی پر اپنے خاص انداز میں روشنی ڈالتے ہیں تو ان کی باتیں ہمارے دلوں پر اپنا اثر چھوڑ جاتی ہیں۔ وہ قوم کی بچیوں کی آزادی اور بے پردگی کے سخت مخالف تھے۔ بہت سے اشعار میں عورتوں کی بے پر دگی اور ان کے شمع انجمن بن جانے پر طنزیہ لہجے میں اپنے تاثرات کا اظہار کیا ہے۔ زیر نظر کتاب میں عورتوں کےمتعلق ان کے کہے ہوئے اشعار کو یکجا کیا گیا ہے۔