جو ن ایلیا کی شاعری محتاج تعارف نہیں ۔ ا ن کی شاعری نے دنیا کو شاعری کے ایک انوکھے ڈھنگ سے روشناس کرایا اور لفظو ں کو ایک نیا پیراہن عطا کر کے لوگوں کو حیران کر دیا ۔ انہوں نے اپنے عہد کی فرسودہ روایت اور ترقی پسندیت ، جدیدیت اور وجودیت جیسی تحریکوں سے ہٹ کر اور ذات و کائنات کی باتوں کو چھوڑ کر ، میر و مومن کے بعد جو روایت تشنہ رہ گئی تھی اسے ایک بار پھر سے آبیار کیا اور پھر سے عشق و محبت جیسے موضوعات کو اپنی شاعری کا عنصر بنایا اور غم حجراں ، وصال اور درد و الم سے شرابور نظمیں ، غزلیں و قطعات صفحہ قرطاس پر اتار دئے۔کہیں کہیں اہل زمانہ اور معشوق پر ان کی جھنجھلاہٹ صاف نظر آتی ہے اور جب یہ ناراضگی اور جھنجھلاہٹ ان کی شاعری کا حصہ بنتی ہے تو وہ کلاسیکی عشقیہ شاعری نہ ہوکر زمین پر سانس لیتے ہوئے مرد و عورت کی محبت و نفرت کی شاعری بن جاتی ہے۔ وہ ہمیشہ تلخ و شیرین حالات میں اپنے محبوب کو سامنے رکھ کر دو ٹوک بات کرتے ہیں اور ہواوں ،بادلوں، پھول ، خوشبو کو اپنی بات پہونچانے کے لئے نہیں استعمال کرتے ۔ "گمان" جون کا شعری مجموعہ ہے ۔جس میں جون کی خوبصورت غزلیات کے ایک سے بڑھ کر ایک نمونے نظر آتے ہیں اور ساتھ ساتھ ان کی بہترین نظمیں اور قطعیات بھی اس مجموعہ کا حصہ ہیں ۔ جون ایلیا کو مطالعہ کرنے والے اور انہیں پسند کرنے والے اس مجموعہ کلام سے اپنی پیاس بچھا سکتے ہیں۔