آزاد ملک میں یا اس سے قبل مسلم گریجویٹ کے اعداد وشمار کا اہتمام بھی ایک فخریہ کام تھا۔ گیجویٹ نوجوانوں کی تعداد ہی کم تھی یہی وجہ تھی کہ اس زمانے میں جن لوگوں نے تعلیم حاصل کی اور جتنی حاصل کی اپنے نام کے ساتھ ڈگریوں کو بطور کنیت استعمال کرتے تھے۔ آج کے زمانے میں تعلیم یافتگان کی کمی نہیں، تاہم عالمی سطح پر تو پھر بھی ہندوستان کی شرح تعلیم مایوس کن ہی ہے، تاہم اب کوئی اپنی ایم اے، بی اے جیسی ڈگریوں کو بطور کنیت استعمال میں نہیں لاتے کہ اس سے اب خود گریجویٹ میں بلکہ قوم میں بھی کوئی فخریہ احساس دور تک پتا نہیں چلتا۔