منشی پریم چند اردو کے وہ افسانہ نگار ہیں جنہوں نے اردو افسانوں کو طلسماتی اور رومانی فضا سے نکال کر زندگی کی حقیقتوں کا نقیب اور ترجمان بنایا۔۔پریم چند نے افسانہ میں عام انسانی زندگی سے اخذ کیے ہوئے کرداروں کے مطالعہ اور ان کے نفسیاتی تجزیے پر بڑا زور دیا ہے ۔پریم چند نے اردو زبان و ادب اور اس کے سرمایہ فکرکو ایک نئی جہت سے آشنا کیا۔ انھوں نے زندگی اور کائنات کو فکر و نظر کے مروجہ زادیوں سے ہٹ کر ایک نئی سطح سے دیکھا۔ ایک ایسی بلند سطح سے جہاں سے زندگی اور انسانیت کا سمندر کروٹیں لیتا اور ٹھاٹھیں مارتا نظر آتا تھا۔ وہ پہلے ادیب تھے جن کی نظر حیات انسانیت کے انبوہ میں ان مجبور اور بے بس انسانوں تک پہنچی جو قدرت کے دوسرے بے زبان مظاہر کی طرح صدیوں سے گونگے اور بے زبان تھے، پریم چند نے انھیں زبان دی "خواب و خیال " ان کے افسانوں کو مجموعہ ہے جو کہ 1928ء میں شائع ہوا اس مجموعے میں 14 افسانے شامل ہیں۔