کیا شکوہ ہمیں اے دل ہم پر آوازے جو دنیا گستی ہے
کیا شکوہ ہمیں اے دل ہم پر آوازے جو دنیا گستی ہے
اب خود ہی ہماری حالت پر تقدیر ہماری ہستی ہے
اے دوست جفاؤں کی تیری کچھ اس پر نوازش ہے ورنہ
اک قطرۂ خون دل کے سوا کیا اشک وفا کی ہستی ہے
رفعت کے فریبوں میں آ کے تو ناز نہ کر مغرور نہ بن
سمجھا ہے بلندی تونے جسے نادان یہ حد کی پستی ہے
مجبور یوں ہی مجبور رہا بیتاب کو کب ہے تاب ملی
پہلے بھی یہ دنیا بستی تھی اور اب بھی یہ دنیا بستی ہے
یہ سچ ہے ستم کے ہاتھوں سے آزاد ہوا گلشن لیکن
گلچین جفا کی شاخوں پر اب بھی وہی چیرہ دستی ہے
ہاں تھا جو ارادو کا مسکن اور تھا جو امنگوں کا گلشن
یہ دل ہے وہی اب جس دل میں ناکام تمنا بستی ہے
تدبیر کے ناخن سے جتنی ہم کھولتے ہیں گر ہیں غم کی
اتنی ہی نیازؔ زار ہمیں تقدیر کی بندش کستی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.