فنا کی گود میں بیٹھا ہوں، یہ ہستی ہے کیا میری
فنا کی گود میں بیٹھا ہوں، یہ ہستی ہے کیا میری
نہ جانے ابتدا کیا ہے، کہاں ہے انتہا میری
میں عصیاں کار ہوں، ہے کام تیرا در گزر کرنا
نمودِ لغزشِ آدم ہوں، فطرت ہے خطا میری
بدل جائیں گے اک دن خود غرورِ حسن کے تیور
کبھی مجبور ہوں گے وہ بھی سننے پر صدا میری
یہ میرا حوصلہ تھا جو سرِ دار و رسن آیا
یہ تیرا ظرف ہے سمجھے نہ سمجھے تو وفا میری
- کتاب : تذکرہ شعرائے سہسوان (Pg. 78)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.