رات بھر مجھ کو غمِ یار نے سونے نہ دیا
رات بھر مجھ کو غمِ یار نے سونے نہ دیا
صبح کو خوفِ شبِ تار نے سونے نہ دیا
شمع کی طرح مجھے رات کٹی سولی پر
چین سے یادِ قدِ یار نے سونے نہ دیا
یہ کراہا ترا بیمارِ الم درد کے ساتھ
کسی ہم سایہ کو بیمار نے سونے نہ دیا
اے دلِ زار تو سویا کیا آرام سے رات
مجھے پل بھر بھی دلِ زار نے سونے نہ دیا
میں وہ مجنوں ہوں کہ زنداں میں نگہبانوں کو
مری زنجیر کی جھنکار نے سونے نہ دیا
سوؤں میں کیا کہ مرے پاؤں کو بھی زنداں میں
آرزوئے خلشِ یار نے سونے نہ دیا
یاس و غم و رنج و تعب میرے ہوئے دشمنِ جاں
اے ظفرؔ شب انہیں دوچار نے سونے نہ دیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.