شرمندہ کر رہی ہے مری ہر خطا مجھے
شرمندہ کر رہی ہے مری ہر خطا مجھے
تسکین دے رہا ہے کرم آپ کا مجھے
میں حق بندگی نہ ادا کر سکا کبھی
لیکن ترے کرم نے نوازا سدا مجھے
دھبہ نہ لگنے پائے غلامی کے داغ میں
قربان یار ہونے دے شوق وفا مجھے
دونوں جہاں میں جب نہ رہا کوئی آسرا
لے آ یا تیرے قدموں میں بخت رسا مجھے
احساں وہ کون سا ہے جو تو نے نہیں کیا
تجھ سا شفیق مل نہ سکا دوسرا مجھے
خادمؔ میں ان کے نقش قدم پر رہوں نثار
خاک صنم جو بنا دے خدا مجھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.