Font by Mehr Nastaliq Web

اس نے کہا تو کون ہے میں نے کہا بندہ ترا

شاہ تقی راز بریلوی

اس نے کہا تو کون ہے میں نے کہا بندہ ترا

شاہ تقی راز بریلوی

اس نے کہا تو کون ہے میں نے کہا بندہ ترا

اس نے کہا کیا چاہیے میں نے کہا صدقہ ترا

اس نے کہا دل میں ہے کیا میں نے کہا الفت تری

اس نے کہا سر میں ہے کیا میں نے کہا سودا ترا

اس نے کہا تارے ہیں کیا میں نے کہا افشاں تری

اس نے کہا ہے چاند کیا میں نے کہا جلوا ترا

اس نے کہا کیوں سر جھکا میں نے کہا طالب ہوں میں

اس نے کہا کرتا ہے کیا میں نے کہا سجدا ترا

اس نے کہا یہ دل ہے کیا میں نے کہا تیری جگہ

اس نے کہا کیا ہے نظر میں نے کہا پردا ترا

اس نے کہا کیا ہے خزاں میں نے کہا تیرا عتاب

وہ بولا کیا ہے فصلِ گل میں نے کہا عشوا ترا

اس نے کہا میں کون ہوں میں نے کہا مہر مبیں

اس نے کہا ہے رازؔ کیا میں نے کہا رسوا ترا

مأخذ :

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY
بولیے