Font by Mehr Nastaliq Web

پڑے مجھ پر نہ کچھ افتاد یا غوث

حسن رضا بریلوی

پڑے مجھ پر نہ کچھ افتاد یا غوث

حسن رضا بریلوی

MORE BYحسن رضا بریلوی

    دلچسپ معلومات

    منقبت در شان غوث پاک شیخ عبدالقادر جیلانی (بغداد-عراق)

    پڑے مجھ پر نہ کچھ افتاد یا غوث

    مدد پر ہو تیری امداد یا غوث

    اڑے تیری طرف بعد فنا خاک

    نہ ہو مٹی مری برباد یا غوث

    مرے دل میں بسیں جلوے تمہارے

    یہ ویرانہ بنے بغداد یا غوث

    نہ بھولوں بھول کر بھی یاد تیری

    نہ یاد آئے کسی کی یاد یا غوث

    مریدی لا تخف فرماتے آؤ

    بلاؤں میں ہے یہ ناشاد یا غوث

    گلے تک آ گیا سیلاب غم کا

    چلا میں آئیے فریاد یا غوث

    نشیمن سے اڑا کر بھی نہ چھوڑا

    ابھی ہے گھات میں صیاد یا غوث

    خمیدہ سر گرفتارِ قضا ہے

    کشیدہ خنجر جلاد یا غوث

    اندھیری رات جنگل میں اکیلا

    مدد کا وقت ہے فریاد یا غوث

    کھلا دو غنچۂ خاطر کہ تم ہو

    بہارِ گلشنِ ایجاد یا غوث

    مرے غم کی کہانی آپ سن لیں

    کہوں میں کس سے یہ روداد یا غوث

    رہوں آزاد قید عشق کب تک

    کرو اس قید سے آزاد یا غوث

    کرو گے کب تک اچھا مجھ برے کو

    مرے حق میں ہے کیا ارشاد یا غوث

    غمِ دنیا غمِ قبر و غمِ حشر

    خدا را کر دے مجھ کو شاد یا غوث

    حسنؔ منگتا ہے دے دے بھیک داتا

    رہے یہ راج پاٹ آباد یا غوث

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے