رسالت کا منور ان کے سر پر تاج ہے بے شک
رسالت کا منور ان کے سر پر تاج ہے بے شک
محمد کی شفاعت کا جہاں محتاج ہے بے شک
جہاں میں صورتِ انساں شہ ابرار کا آنا
عروجِ آدمیت کی حسیں معراج ہے بے شک
بنا کر محسنِ انسانیت بھیجا انہیں رب نے
تمام انسانیت کا ان کے سر پر تاج ہے بے شک
خدا نے شافع محشر بنایا ہے محمد کو
انہیں کے ہاتھ سارے عاصیوں کی لاج ہے بے شک
جہانوں کے لیے رحمت بنا کر رب نے یوں بھیجا
سراج اب تک ضیا پاشی میں خود وہاج ہے بے شک
یقیناً شاہِ بحر و بر کی سب پر حکمرانی ہے
سبھی جن و ملک پر مصطفیٰ کا راج ہے بے شک
شبِ معراج نبیوں کی امامت جس نے فرمائی
تمامی انبیا کا اک وہی سرتاج ہے بے شک
رہے عشقِ محمد گر عمل کے ساتھ جس دل میں
تو سمجھو قلب وہ مثلِ مبیں پکھراج ہے بے شک
تڑپتا ہے سبھی کا قلب گر چہ عشقِ احمد میں
مقدر کا دھنی لیکن دلِ حجاج ہے بے شک
یتیموں اور مسکینوں کی بھی تکریم فرمائی
یہ بہرِ بے کساں روشن تریں منہاج ہے بے شک
مرے آقا کرم کی اک نظر فرمائیے سب پر
کہ اک امید کا پیکر غزالیؔ آج ہے بے شک
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.