Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

محشر میں اگر اٹھوں، دامن میں چھپا جانا

سید امجد حسین

محشر میں اگر اٹھوں، دامن میں چھپا جانا

سید امجد حسین

MORE BYسید امجد حسین

    محشر میں اگر اٹھوں، دامن میں چھپا جانا

    جو اشک بہے میرے، رحمت سے مٹا جانا

    بس تیری نظر بھر سے تقدیر بدل جائے

    جو ہجر میں تڑپا ہوں، اس غم کو مٹا جانا

    ہر جنبشِ لب پر تیرا ذکر رہے ہر دم

    تو صبحِ سخن میری، تو مجھ میں رچا جانا

    ہر درد کا مرہم ہے، ہر زخم کی راحت ہے

    بس حشر میں آ کر تو دامن میں چھپا جانا

    اب اور بھٹکنے کی ہمت نہیں کچھ باقی

    بس راہ دکھا دینا، رستے پہ چلا جانا

    مدفن مرا کر دینا اس کوچے کی مٹی میں

    جنت کی نہ چاہت ہے، بس در پہ سلا جانا

    ہر سمت اندھیرا ہے، ہر سمت اداسی ہے

    روشن میری دنیا کو، آ کر تو بنا جانا

    اس تشنگیٔ دل میں، اک جام عطا کر دے

    ہر شب کی تپش میری، اک شام بنا جانا

    جب آخری سانسیں ہوں اور لب پہ دعا آئے

    بس نام تیرا لے کر دنیا سے چلا جانا

    منظر ہو مدینے کا اور شام ٹھہر جائے

    اس امجدؔ بے کس کو دربار دکھا جانا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے