تا ہست جہاں بزم رندانہ سلامت باد
تا ہست جہاں بزم رندانہ سلامت باد
پیمانم اگر بشکست پیمانہ سلامت باد
رہتی دنیا تک رندوں کی یہ بزم سلامت رہے (عشق الٰہی اور حبِ رسول اکرم کی بزم)، میرا عہد اگر ٹوٹ جائے تو پیمانہ سلامت رہے (یعنی پیمانے سے تعلق کا جو عہد کیا ہے، وہ دینوی الجھنوں میں پڑ کر ٹوٹ جائے تو پھر عہد استوار کر لیں گے پیمانے کو سلامت رہنا چاہیے)۔
گر محتسب شہرم بشکست سبوئے مئے
پروائے نمی دارم میخانہ سلامت باد
اگر محتسب شہر (عقل عیار) میرا سبو (شراب کا مٹکا یا صراحی) توڑ دے تو کوئی پروا نہیں، میخانہ سلامت رہے (عشق الٰہی کا میخانہ سلامت رہے تو عقل عیار کا عشق پر ہمیشہ غلبہ نہیں رہ سکتا پھر عشق غالب ہو جائے گا)۔
ہمدم چہ دہی خوف از خونخواری عشق او
من گر چہ روم از جاں جانانہ سلامت باد
اے میرے دوست (عقل مصلحت اندیش) اس کے عشق کی خوں خواری سے کیوں ڈرتا ہے، اگر میں عشق کی راہ میں جان سے گذر گیا تو کیا فکر؟ معشوق سلامت رہے (معشوق کا سلامت رہنا عاشق کی منتہائے فکر ہے)۔
باشد چو ز دیوانہ آبادی کوئے زلف
زلف تو و ایں فردؔ دیوانہ سلامت باد
دل ویرانہ جب (معشوق حقیقی) کی محبت کا مخزن بن گیا، تو اب مجھ کو آبادی دل کی تمنا نہیں یہ ویرانہ سلامت رہے۔
- کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 195)
- Author : شاہ ہلال احمد قادری
- مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
- اشاعت : First
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.