بے نشانے کہ از و نام و نشاں می طلبی
بے نشانے کہ از و نام و نشاں می طلبی
بنگر آئینہ روئے رسول عربی
اس بے نشان کا اگر نام و نشان پوچھتے ہو، تو آئینہ روئے رسول عربی دیکھ لو (یعنی ذات رسول مظہر انوار الٰہی ہے اور ان کا سراپا، ایزد بے نشاں کا واضح نشان ہے)۔
مطلع نور ازل غیر جمالش نبود
ہست جبریل امیں شیفتہ زیں بوالعجبی
نور ازلی (یعنی نور الٰہی) کے طلوع ہونے کی جگہ در اصل جمال نبوی کے سوا کچھ نہیں، جبرئیل امین بھی اس بوالعجبی پر شیفتہ ہیں۔
بخت بیدار گراے فردؔ تمنا داری
ایں شب عمر بسر کن بہ درِپاک نبی
اے فرد! اگر تمہیں بخت بیدار و اقبال کی تمنا ہو تو اس زندگی کی شب کو نبی کے درِ پاک پر بسر کرو۔
- کتاب : نغمات الانس فی مجالس القدس (Pg. 312)
- Author :شاہ ہلال احمد قادری
- مطبع : دارالاشاعت خانقاہ مجیبیہ (2016)
- اشاعت : First
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.