Sufinama

خواجہ معین_الدین کے گھر آج دھاتی ہے بسنت

شاہ نیاز احمد بریلوی

خواجہ معین_الدین کے گھر آج دھاتی ہے بسنت

شاہ نیاز احمد بریلوی

MORE BYشاہ نیاز احمد بریلوی

    خواجہ معین الدین کے گھر آج دھاتی ہے بسنت

    کیا بن بنا اور سج سجا مجرے کو آتی ہے بسنت

    پھولوں کے گڈوے ہاتھ لیے گانا بجانا ساتھ لے

    جوبن کی مدھ میں مست ہو ہو راگ گاتی ہے بسنت

    چھتیاں امنگ سے بھر رہیں نیناں سے نیناں لڑ رہیں

    کس طرز معشوقانہ ہے جلوے دکھاتی ہے بسنت

    لے سنگ سکھیاں گل بدن رنگ بسنتی کا برن

    کیا ہی خوشی اور عیش کا سامان لاتی ہے بسنت

    ناز و ادا سے جھومنا خواجہ کی چوکھٹ چومنا

    دیکھو نیازؔ اس رنگ میں کیسی سہاتی ہے بسنت

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    speakNow