داغ کا شمار دہلی اسکول کے نمایندہ شاعروں میں ہوتا ہےلال قلعے میں ان کی پرورش ہویی۔ آفتاب داغ ان کے کلام کا مجموعہ جسے انہوں نے ۱۸۷۸ سے ۱۸۸۲ تک کے کلام کو اکٹھا کیا ہے۔ گلزارداغ کی طرح آفتاب داغ میں بھی ردیف قافیہ موجود نہیں ہے۔ ان کے کلام میں آمد مضمون، جوش بیان اور زبان کی صفایی ایسی ہے جو انہیں کسی خاص طبقے، خطے یا قوم کا شاعر نہیں بناتی بلکہ انہیں تمام ملک کا متفقہ شاعر ثابت کرتی ہے۔