جام جم ہے کہ ہے یہ تاج سکندر گاگر
دلچسپ معلومات
خواجہ کڑک ابدال کی درگاہ سے گاگر اٹھ کر دریائے گنگا تک جاتی ہے جو وہاں سے تقریباً ایک میل کے فاصلے پر ہے اور وہاں سے گاگر بھر کر پھر مزار تک گاگر لے جانے میں قوالی گاتے ہوئے گزرتے ہیں اس موقع کے لیے عدیلؔ نے ایک نظم بعنوان گاگر لکھی تھی۔
جام جم ہے کہ ہے یہ تاج سکندر گاگر
پنجتن پاک کا سایہ ہے کہ سر پر گاگر
ہر گھڑی ہر زماں رٹتا ہوں میں گاگر گاگر
دل میں گاگر ہے مرے میری زباں پر گاگر
بھر دیا راز الٰہی سے علی نے اس کو
ہوگئی اب تو حقیقت میں سمندر گاگر
حوریں جنت میں پکاریں کہ مبارک ہو انہیں
خواجہ کڑکی جو چلے سر پہ اٹھا کر گاگر
اس طرح مالی نے پھولوں سے سجایا ہے اسے
تربت خواجہ کڑک پر ہے گل تر گاگر
گر محبت ہو حقیقی تو حقیقت میں عدیلؔ
بھر کے دیں ساقیٔ کوثر لب کوثر گاگر
- کتاب : sukhanwaran-e-qasaba-e-kada (Pg. 243)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.