Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

اک اضطراب شوق کی دنیا لیے ہوئے

عبدالغفور سنبھلی

اک اضطراب شوق کی دنیا لیے ہوئے

عبدالغفور سنبھلی

اک اضطراب شوق کی دنیا لیے ہوئے

میں پھر رہا ہوں تیری تمنا لیے ہوئے

ہر شے میں دیکھتا ہوں کوئی منظر جمال

آیا ہوں تیرے حسن کا جلوا لیے ہوئے

کب آئے ہیں وہ پوچھنے بیمار غم کا حال

جب جا رہے ہیں لوگ جنازا لیے ہوئے

صدمہ مریض غم کا اٹھایا نہ جائے گا

بیٹھے ہیں کیوں جناب مسیحا لیے ہوئے

دیکھا ہے ہم نے تم کو تصور میں بارہا

اک جنبش نگاہ میں کیا کیا لیے ہوئے

رودادِ غم سنانے چلا ہوں کسی کو میں

اشکوں میں ترجمانی دریا لیے ہوئے

کیا فکر مجھ کو بخشش عصیاں کی ہو غفورؔ

آخر تو ہوں میں ان کا سہارا لیے ہوئے

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY
بولیے