فرصت کے سہانے لمحوں میں کیا کام کی باتیں ہوتی ہیں
فرصت کے سہانے لمحوں میں کیا کام کی باتیں ہوتی ہیں
کچھ یار کا قصہ ہوتا ہے کچھ جام کی باتیں ہوتی ہیں
اے دوست تبسم کی لہریں ہونٹوں پہ کہاں سے اب لاؤں
حالات کے میلے ہوتے ہیں ایام کی باتیں ہوتی ہیں
اربابِ خرد کی محفل میں دل اور پریشاں ہوتا ہے
کچھ سوچ کے وقفے ہوتے ہیں کچھ کام کی باتیں ہوتی ہیں
آلامِ زمانہ فرصت دیں تو بیٹھ کے دل کا حال کہیں
اس زلفِ مسلسل کی باتیں، آرام کی باتیں ہوتی ہیں
جس وقت عدمؔ دل دنیا کے افکار سے خالی ہوتا ہے
اس وقت جو باتیں ہوتی ہیں، الہام کی باتیں ہوتی ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.