Sufinama

بے وفا سے بھی پیار ہوتا ہے

پرنم الہ آبادی

بے وفا سے بھی پیار ہوتا ہے

پرنم الہ آبادی

MORE BYپرنم الہ آبادی

    بے وفا سے بھی پیار ہوتا ہے

    یار کچھ بھی ہو یار ہوتا ہے

    ساتھ اس کے جو ہے رقیب تو کیا

    پھولوں کے ساتھ خار ہوتا ہے

    جب وہ ہوتے ہیں صحن گلشن میں

    موسم نو بہار ہوتا ہے

    کاش ہوتے ہم اس کے پھولوں میں

    اس گلے کا جو ہار ہوتا ہے

    دوست سے کیوں بھلا نہ کھاتے فریب

    دوست پہ اعتبار ہوتا ہے

    جب وہ آتے نہیں شب وعدہ

    موت کا انتظار ہوتا ہے

    وصل میں بھی خیال ہجر سے دل

    بے سکون بے قرار ہوتا ہے

    ہم بڑے خوش نصیب ہیں ورنہ

    آپ کو کس سے پیار ہوتا ہے

    تیر وہ تیر نیم کش تو نہیں

    دل کے جو آر پار ہوتا ہے

    حسن اخلاق عروس حیات

    سب سے اچھا سنگار ہوتا ہے

    عشق کی کائنات کا پرنمؔ

    حسن پروردگار ہوتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY