Sufinama

دنیا کے ہر خیال سے بیگانہ کر دیا

فنا بلند شہری

دنیا کے ہر خیال سے بیگانہ کر دیا

فنا بلند شہری

MORE BYفنا بلند شہری

    دنیا کے ہر خیال سے بیگانہ کر دیا

    حسن خیال یار نے دیوانہ کر دیا

    تو نے کمال جلوۂ جانانہ کر دیا

    بلبل کو پھول شمع کو پروانہ کر دیا

    مشرب نہیں یہ میرا کہ پوجوں بتوں کو میں

    شوق طلب نے دل کو صنم خانہ کر دیا

    ان کی نگاہ مست کے قربان جائیے

    میرے جنوں کو حاصل مے خانہ کر دیا

    ٹھکرائے یا قبول کرے اس کی بات ہے

    ہم نے تو پیش جان کا نذرانہ کر دیا

    تیرے خرام ناز پہ قربان زندگی

    نقش قدم کو رونق ویرانہ کر دیا

    میخانۂ الست کا وہ رند ہوں فناؔ

    جس پر نگاہ ڈال دی مستانہ کر دیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY