Sufinama

نہ میرے دل نہ جگر پر نہ دیدۂ تر پر

آسی غازیپوری

نہ میرے دل نہ جگر پر نہ دیدۂ تر پر

آسی غازیپوری

MORE BYآسی غازیپوری

    نہ میرے دل نہ جگر پر نہ دیدۂ تر پر

    کرم کرے وہ نشان قدم تو پتھر پر

    تمہارے حسن کی تصویر کوئی کیا کھینچے

    نظر ٹھہرتی نہیں عارض منور پر

    کسی نے لی رہ کعبہ کوئی گیا سوئے دیر

    پڑے رہے ترے بندے مگر ترے در پر

    گناہ گار ہوں میں واعظو تمہیں کیا فکر

    مرا معاملہ چھوڑو شفیع محشر پر

    ان ابروؤں سے کہو کشتنی میں جان بھی ہے

    اسی کے واسطے خنجر کھنچا ہے خنجر پر

    پلا دے آج کہ مرتے ہیں رند اے ساقی

    ضرور کیا کہ یہ جلسہ ہو حوض کوثر پر

    صلاحیت بھی تو پیدا کر اے دل مضطر

    پڑا ہے نقش کف پائے یار پتھر پر

    وفور جوش ضیا اور ان کے دانتوں کا

    حباب گنبد گردوں ہے آب گوہر پر

    اخیر وقت ہے آسیؔ چلو مدینے کو

    نثار ہو کے مرو تربت پیمبر پر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY