اگر چہ ہے تو درد میں مبتلا خوب
اگر چہ ہے تو درد میں مبتلا خوب
زمانے کے آگے مگر مسکرا خوب
مری بے قراری پہ کھاؤ ترس اب
وگرنہ مجھے دو مری جاں سزا خوب
میں قربان قدرت کی کاری گری پر
کہ جس نے بنایا تجھے خوش نما خوب
میں تیرا دوا نہ ہوں جام محبت
اے ساقی ان آنکھوں سے مجھ کو پلا خوب
یہ باد مخالف تو چلتی رہے گی
جلا تو چراغ محبت جلا خوب
حفاظت کرے گا خدا ہر بلا سے
مری ماں کی میرے لیے ہے دعا خوب
رقم میں نے کی ایسی اک نظم الفت
پڑھا جس نے نازاںؔ مچل کر کہا خوب
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.