Sufinama

کڑکے جو مرا نالۂ شب گیر ہوا پر

شاہ رکن الدین عشقؔ

کڑکے جو مرا نالۂ شب گیر ہوا پر

شاہ رکن الدین عشقؔ

MORE BY شاہ رکن الدین عشقؔ

    کڑکے جو مرا نالۂ شب گیر ہوا پر

    جل جاوے وہیں برق کی شمشیر ہوا پر

    اڑتے ہوئے دیکھا جو دل وحشی کو غم سے

    کھا پیچ اڑی زلف کی زنجیر ہوا پر

    بے کار فلک سے نہیں یہ ٹکٹکی لاگی

    کھینچے ہے تصور مرا تصویر ہوا پر

    کیوں کر نہ چلیں گلشن دنیا میں یہ لویں

    ہو گئی ہے میاں آہ کی تاثیر ہوا پر

    یاں دم کا بھروسا نہیں تدبیر سے حاصل

    کرتا ہے دوانے کوئی تعمیر ہوا پر

    بارے کہو تم عشق کو کس طور نہ رووے

    ہے ان دنوں دود دل دلگیر ہوا پر

    مآخذ:

    • Book : کلیات رکن الدین عشقؔ اور ان کی حیات و شاعری (Pg. 99)
    • Author : قریشہ حسین
    • مطبع : دی آزاد پریس، پٹنہ (1979)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY