Font by Mehr Nastaliq Web

غزلیں

صوفی غزلوں کابڑا سرمایہ/صوفی نامہ

-1943

حضرت شاہ اکبر داناپوری کے ممتاز مرید و خلیفہ اور الہ آباد میں سلسلۂ ابوالعلائیہ کے متحرک صوفی بزرگ۔

حضرت تلمیذ کے شاگرد رشید

داغ دہلوی کے بھانجہ اور شاہ عبدالمقتدر بدایونی کے مرید

-1906

آپ حضرت محمد علی شاہ خیرآبادی کے خلیفہ اور صاحب دیوان شاعر ہیں

1883

نظم کے لئے مشہور

علی گڑھ کے قصبہ دادوں کے رئیس اور حضرت حافظ اسلم خیرآبادی کے مرید

1884 -1967

درگاہ حضرت دیوان شاہ ارزاں، سلطان گنج، پٹنہ کے معروف سجادہ نشیں اور فن شاعری میں داغ دہلوی اور احسن مارہروی کے شاگرد

سیماب اکبرآبادی کے شاگرد اور سلسلۂ وارثیہ کے درویش صفت شاعر

1922 -1999

اردو کے ممتاز شاعر اور بالی ووڈ کے شہرۂ آفاق نغمہ نگار تھے، راج کپور کی فلموں کے لیے لکھے گئے "بہاروں پھول برساؤ"، "زندگی ایک سفر ہے سہانا" اور "احسان تیرا ہوگا مجھ پر" جیسے لازوال گیت ان کی ادبی و فنی عظمت کے شاہد ہیں۔

1816 -1886

عظیم آباد کے جلیل القدر عالم، صوفی، شاعر اور شمس العلما تھے جنہوں نے علم، ادب اور تصوف کی بے مثال خدمات انجام دیں۔

1875 -1951

مجاہد آزادی اور آئین ساز اسمبلی کے رکن ، ’انقلاب زندہ باد‘ کا نعرہ دیا ، شری کرشن کے معتقد ، اپنی غزل ’ چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے‘ کے لئے مشہور

-1961

حاجی وارث علی شاہ کے مرید اورعرش گیاوی کے شاگرد

1855 -1916

خانقاہ حسنیہ ابوالعلائیہ، شہسرام کے بانی

1911

عظیم آباد کے محقق

1913

ترقی اردو، چاٹگام کے صدر

1972

برصغیر کے نامور محقق اور مخدومہ امیر جان لائبریری، نرالی کے سرپرست

1989

اسلام آباد کے نوجوان شاعر اور بحیثیت صوفی اسکالر مشہور

-1962

ماہنامہ ادیب، الہ آباد کے مدیر اعلیٰ

راز نعمانی کے شاگرد اور بزم احبابِ ادب سے وابستہ

1914

اردو کے ممتاز شاعر اور ادیب، مولانا یعقوب ضیاؤالقادری کے شاگرد تھے، "میزانِ حشر" ان کا معروف شعری مجموعہ جبکہ "ٹوٹے ہوئے دل" ان کی نمایاں نثری تصنیف ہے۔

1930

سراج لکھنوی اور عمر انصاری کے شاگرد، صاحبِ دیوان شاعر اور آئینہ خانہ کے خالق تھے۔

1902 -1980

حضرت شاہ طالب حسین مجیب کے مرید، ڈاکٹر ذاکر حسین کے قریبی رفیق، تحریکِ آزادی کے مجاہد اور ممتاز شاعر و صحافی تھے۔

1912 -1973

اپنی غزل "محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے" کے لئے مشہور

1898 -1962

بدایوں کے قادرالکلام اور زود گو شاعر

1934 -2005

ویشالی کے ممتاز نعت گو شاعر، یکتا کلکتوی کے شاگرد اور سلسلۂ قادریہ سے وابستہ صوفی مزاج ادیب تھے، ’’توشۂ آخرت‘‘ ان کی معروف نعتیہ تصنیف ہے۔

1928 -2009

اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور ماہرِ معاشیات تھے، شریف اثرؔ کے فرزند، اقوامِ متحدہ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے اور "چراغاں"، "خیاباں" اور نعتیہ مجموعہ "خلقِ مجسم" ان کی نمایاں ادبی یادگاریں ہیں۔

بولیے