غزلیں
صوفی غزلوں کابڑا سرمایہ/صوفی نامہ
حضرت شاہ اکبر داناپوری کے ممتاز مرید و خلیفہ اور الہ آباد میں سلسلۂ ابوالعلائیہ کے متحرک صوفی بزرگ۔
درگاہ حضرت دیوان شاہ ارزاں، سلطان گنج، پٹنہ کے معروف سجادہ نشیں اور فن شاعری میں داغ دہلوی اور احسن مارہروی کے شاگرد
اردو کے ممتاز شاعر اور بالی ووڈ کے شہرۂ آفاق نغمہ نگار تھے، راج کپور کی فلموں کے لیے لکھے گئے "بہاروں پھول برساؤ"، "زندگی ایک سفر ہے سہانا" اور "احسان تیرا ہوگا مجھ پر" جیسے لازوال گیت ان کی ادبی و فنی عظمت کے شاہد ہیں۔
عظیم آباد کے جلیل القدر عالم، صوفی، شاعر اور شمس العلما تھے جنہوں نے علم، ادب اور تصوف کی بے مثال خدمات انجام دیں۔
مجاہد آزادی اور آئین ساز اسمبلی کے رکن ، ’انقلاب زندہ باد‘ کا نعرہ دیا ، شری کرشن کے معتقد ، اپنی غزل ’ چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے‘ کے لئے مشہور
اردو کے ممتاز شاعر اور ادیب، مولانا یعقوب ضیاؤالقادری کے شاگرد تھے، "میزانِ حشر" ان کا معروف شعری مجموعہ جبکہ "ٹوٹے ہوئے دل" ان کی نمایاں نثری تصنیف ہے۔
سراج لکھنوی اور عمر انصاری کے شاگرد، صاحبِ دیوان شاعر اور آئینہ خانہ کے خالق تھے۔
حضرت شاہ طالب حسین مجیب کے مرید، ڈاکٹر ذاکر حسین کے قریبی رفیق، تحریکِ آزادی کے مجاہد اور ممتاز شاعر و صحافی تھے۔
ویشالی کے ممتاز نعت گو شاعر، یکتا کلکتوی کے شاگرد اور سلسلۂ قادریہ سے وابستہ صوفی مزاج ادیب تھے، ’’توشۂ آخرت‘‘ ان کی معروف نعتیہ تصنیف ہے۔