غزلیں
صوفی غزلوں کابڑا سرمایہ/صوفی نامہ
بریلی کے صوفی منش شاعر، طبیب اور خانقاہ سجادیہ، شیش گڑھ کے سجادہ نشیں تھے، انہوں نے جامعہ نعیمیہ، مرادآباد سے دینی علوم اور طب کی تعلیم حاصل کی، ان کی شاعری میں صوفیانہ فکر نمایاں ہے، جبکہ جذبۂ دل، زخمِ جگر اور فانوسِ خیال ان کے معروف شعری مجموعے ہیں۔
دبستانِ کراچی کے ممتاز غزل گو شاعر تھے، ان کی شاعری زبان کی سلاست، سادگی اور سہلِ ممتنع کی عمدہ مثال ہے، غزل کے علاوہ نعت، منقبت اور سلام نگاری میں بھی انہوں نے نمایاں خدمات انجام دیں، خصوصاً امام حسین کے حضور ان کے سلام عقیدت و محبت کے جذبات سے بھرپور ہیں۔
علم و تصوف کی ممتاز شخصیت تھے، اہلِ بیت سے گہری عقیدت رکھتے تھے اور مرثیہ، نوحہ و سلام کے شاعر تھے۔
اردو و فارسی کے شاعر اور ماہرِ تعلیم تھے، لکھنؤ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور وہیں طویل عرصہ تدریسی خدمات انجام دیں۔
ممتاز غزل گو اور نعت گو شاعر تھے، آپ نے افقر موہانی، اثر لکھنوی اور جگر مرادآبادی سے اصلاحِ سخن حاصل کی، قیامِ پاکستان کے بعد لاہور اور کراچی میں ملازمت کی، شاخِ گل، رنگ و نور اور رحمت لقب آپ کا شعری مجموعہ ہے، اپنی غزل "دل پہ زخم کھاتے ہیں جان سے گزرتے ہیں" کے لیے مشہور۔
ممتاز شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم تھے، وہ ڈھاکہ اور چٹاگانگ کالج میں شعبۂ اردو کے صدر رہے اور اردو زبان و ادب کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا، ان کے معروف شعری مجموعوں میں سات ستارے، چراغِ آخرِ شب، محاصل اور فاصلوں کو تکلف شامل ہیں۔
آپ غزل، نعت اور منقبت کے ممتاز شاعر تھے، فلسفہ، نجوم، خطاطی اور موسیقی سے بھی دلچسپی رکھتے تھے۔
آستانہ خواجہ معین الدین چشتی کے خدام اور مرزا غالب کے شاگرد رشید
لکھنو کے سب سے گرم مزاج شاعر، میر تقی میر کے ہم عصر اور مصحفی کے ساتھ چشمک کے لیے مشہور
بہرائچ کے ممتاز شاعر، محقق اور کثیرالتصنیف ادیب تھے، نشور واحدی کے شاگرد تھے اور "کاروانِ فکر"، "آبروئے دو جہاں" اور "نامورانِ بہرائچ" جیسی اہم تصانیف ان کی علمی و ادبی خدمات کی نمائندہ ہیں۔