غزلیں
صوفی غزلوں کابڑا سرمایہ/صوفی نامہ
اردو کے نعت گو شاعر اور محکمۂ عدلیہ سے وابستہ ایک دیانت دار افسر تھے، آپ نے الہ آباد یونیورسٹی سے ایل ایل بی کیا اور 1973ء میں ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ کے عہدے سے سبکدوش ہوئے، آپ کی شاعری حمد، نعت، منقبت اور سلام پر مشتمل ہے جس میں عشقِ رسول اور دینی عقیدت نمایاں ہے۔
اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور صحافی تھے، غزل آپ کی محبوب صنف تھی، تاہم نثر نگاری اور ادارت میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں، ان کی اہم تصانیف میں تیرِ نظر، شعلۂ رنگیں، فردوسِ سخن، بہارِ غم اور رموزِ سخن شامل ہیں۔
اپنے عہد کی ممتاز شاعرہ تھیں، آپ نے 1945ء میں شاعری کا آغاز کیا اور اپنے شوہر نواب غضنفر علی خاں دانشؔ سے اصلاح لی۔
اردو کے ممتاز شاعر تھے، ان کا تعلق بسواں، سیتاپور کے ایک علمی و ادبی خاندان سے تھا اور شاعری کا ذوق انہیں اپنے والد شیخ امیر علی جزاؔ سے ورثے میں ملا، انہوں نے امیر مینائی کی شاگردی اختیار کی جس سے ان کے فن کو پختگی حاصل ہوئی، ان کی شاعری میں کلاسیکی روایت، زبان کی شستگی اور جذبات کی لطافت نمایاں نظر آتی ہے۔
ممتاز ترین قبل ازجدید شاعروں میں نمایاں، بے پناہ مقبولیت کے لیے معروف
اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور صحافی تھے، گیا سے تعلق رکھتے تھے اور شعر کی اصلاح میں خاص مقام رکھتے تھے، رسالہ "تاج" کے مدیر، 1916ء کے آل انڈیا مشاعرے کے منتظم اور "فروغِ بزم" (1930ء) کے مؤلف تھے جس نے اردو ادب کی تاریخ میں اہم مقام حاصل کیا۔
حیدرآباد کے ممتاز صوفی شاعر تھے، آپ اپنی شاعری میں تصوف، معرفت اور عشقِ الٰہی کو نمایاں مقام دیا، "فانوسِ خیال" آپ کا معروف اردو دیوان ہے، جبکہ فارسی میں بھی ایک دیوان یادگار چھوڑا۔
اردو کے ممتاز کلاسیکی شاعر اور استادِ سخن تھے، امیر مینائی کے شاگرد رہے اور بعد میں دکن کے دربار سے وابستہ ہوئے جہاں "فصاحت جنگ" کا خطاب پایا، ان کے تین دیوان "تاجِ سخن"، "سخن" اور "روحِ سخن" خاص شہرت رکھتے ہیں۔
اردو کے ممتاز شاعر تھے جنہوں نے کم عمری میں شعر گوئی کا آغاز کیا، آپ بنارس کے علمی و ادبی ماحول میں پروان چڑھے، اردو و فارسی پر عبور رکھتے تھے اور شیخ عبدالغنی سے اصلاحِ سخن حاصل کی۔
اردو کے معاصر شاعر اور ادیب ہیں، آپ نے 1970ء میں شعر گوئی کا آغاز کیا اور 1973ء میں ادبی جریدہ "گونج" جاری کیا۔ مغنی صدیقی سے اصلاحِ سخن حاصل کی، آپ کے معروف شعری مجموعوں میں "سلگتے خواب"، "تجدیدِ آرزو" اور "صبرِ جمیل" شامل ہیں۔
حاجی وارث علی شاہ کے چہیتے مرید جنہوں نے پیرومرشد کے حکم پر جنگل میں زندگی گذاری
خاندانِ مجیبی میں سب سے زیادہ وسیع الدرس عالم اور شاہ نعمت اللہ قادری کے مرید و مجاز
اردو و فارسی کے صوفی مزاج شاعر تھے جن کے کلام میں عرفان و معرفت کا رنگ نمایاں ہے۔
بہرائچ کے ممتاز صوفی شاعر تھے جنہوں نے سلسلۂ وارثیہ کی روحانی روایت کو اپنی شاعری میں مؤثر انداز سے پیش کیا، حاجی وارث علی شاہ سے قلبی عقیدت اور روحانی وابستگی نے ان کے کلام کو عشقِ الٰہی، تصوف اور عرفان کے رنگ سے آراستہ کیا جو ان کی ادبی شناخت کا نمایاں وصف ہے۔