غزلیں
صوفی غزلوں کابڑا سرمایہ/صوفی نامہ
گدڑی شاہ ثالث کے نام سے معروف، ممتاز صوفی بزرگ، شاعر، مصنف اور عثمانیہ چلہ، اجمیر کے سجادہ نشیں تھے، تصوف، عرفان اور عشقِ الٰہی پر آپ کی متعدد تصانیف اور گیارہ شعری مجموعے شائع ہوئے جبکہ آپ کی تعلیمات کا بنیادی محور عشق، اخلاص اور احترامِ انسانیت تھا۔
جلیل القدر عالم، صوفی، خوش نویس اور شاعر تھے، ان کی معروف تصنیف ’’مرآۃ الانساب‘‘ علمِ انساب پر ایک اہم کتاب ہے۔
پونہ کے صوفی منش شاعر تھے، شاد پونوی کے شاگرد اور حضرت محمود ابوالعلائی کے مرید تھے، تصوف، درویشی اور دینی خدمت ان کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا جبکہ جامع مسجد کے مدرسے میں قرآنِ کریم کی تعلیم بھی دیتے تھے۔
حیدرآباد کے صاحبِ ذوق شاعر اور سرکاری افسر تھے، حضرت سید محمد بادشاہ محی الدین وجودی کے مرید تھے اور روحانی شاعری کے لیے شہرت رکھتے تھے۔
بدایوں کے ممتاز نعت گو شاعر، ادیب اور معلم تھے، نعت، غزل اور نظم میں نمایاں خدمات انجام دیں جبکہ ان کی اہم تصانیف ’’محسنِ کونین‘‘، ’’انوارِ کربلا‘‘ اور ’’زادِ آخرت‘‘ ہیں۔ 2025ء میں ان کا انتقال ہوا۔
اردو کے صاحبِ طرز شاعر تھے، علم و ادب سے گہری وابستگی کے باعث انہوں نے شاعری میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
اردو کے صوفی منش شاعر تھے، حکیم افتخار علی صدیقی بسوانی کے شاگرد اور حاجی وارث علی کے عقیدت مند تھے، سادگی، روحانیت اور غزل گوئی ان کی شاعری کے نمایاں اوصاف تھے۔
اردو کے شاعر، ادیب، صحافی اور ناشر تھے، غزل، نظم، رباعی اور قصیدہ سمیت مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی اور نو شعری مجموعے شائع کیے جن میں دو نعتیہ مجموعے بھی شامل ہیں، انہوں نے ماہنامہ ’’غریب‘‘ جاری کیا، ادبی جریدہ ’’لہریں‘‘ کی ادارت کی اور تاج پرنٹنگ پریس کے ذریعے علمی و ادبی خدمات انجام دیں۔
صفی پور کے اردو و فارسی کے صاحبِ طرز شاعر تھے، تصوف سے گہری وابستگی رکھتے تھے اور مخدوم خادم صفی کے مرید تھے، ان کا شعری مجموعہ ’’خیابانِ خلیل‘‘ اردو اور فارسی غزلیات پر مشتمل ہے۔
خواجہ ضیاؤالدین کے صحبت یافتہ اور شاہ نصیر دہلوی کے شاگرد رشید
خواجہ امجد حسین نقشبندی کے صاحبزادے بطور صوفی شاعر اپنے میں کافی مقبول تھے، آپ کے عقیدت مندوں کی تعداد ڈھاکہ میں کافی ہوئی۔
چودھویں صدی ہجری کے مقبول صوفی شاعر، آپ کی درگاہ بریلی شہر کے نومحلہ میں واقع ہے۔
علی گڑھ کے ممتاز شاعر تھے، جنہوں نے غزل، نظم، قصیدہ، رباعی، سلام اور سہرا میں طبع آزمائی کی، ان کے کلام کا منتخب مجموعہ 1980ء میں شائع ہوا، جبکہ غزل گوئی ان کی نمایاں ادبی شناخت ہے۔
اردو کے شاعر اور ادبی کارکن تھے، اردو و فارسی کے علمی ماحول میں تربیت پائی اور مولانا شیخ تصدق حسین سے فیض حاصل کیا، انہوں نے آزادی کی تحریک میں حصہ لیا اور ادبی انجمنوں کے قیام کے ذریعے اردو شاعری کے فروغ میں کردار ادا کیا۔
اردو کے ممتاز نعت گو شاعر تھے، ان کے کلام میں عشقِ رسول، سوز و گداز اور سادگیِ بیان نمایاں ہے۔
حضرت علی سجاد بن شاہ نعمت اللہ پھلواروی کے فرزند، صاحبِ علم صوفی شاعر اور اپنی غزل "اگر اس بارگاہِ پاک میں تیرا گزر ہووے" کے لیے مشہور۔
شاہ زید ابوالحسن نقشبندی دہلوی کے مرید اور ’’ساز و نغمہ‘‘ اور ’’چراغ حرم‘‘ کے شاعر