Font by Mehr Nastaliq Web

غزلیں

صوفی غزلوں کابڑا سرمایہ/صوفی نامہ

1894 -1970

گدڑی شاہ ثالث کے نام سے معروف، ممتاز صوفی بزرگ، شاعر، مصنف اور عثمانیہ چلہ، اجمیر کے سجادہ نشیں تھے، تصوف، عرفان اور عشقِ الٰہی پر آپ کی متعدد تصانیف اور گیارہ شعری مجموعے شائع ہوئے جبکہ آپ کی تعلیمات کا بنیادی محور عشق، اخلاص اور احترامِ انسانیت تھا۔

-1954

جلیل القدر عالم، صوفی، خوش نویس اور شاعر تھے، ان کی معروف تصنیف ’’مرآۃ الانساب‘‘ علمِ انساب پر ایک اہم کتاب ہے۔

-1979

پونہ کے صوفی منش شاعر تھے، شاد پونوی کے شاگرد اور حضرت محمود ابوالعلائی کے مرید تھے، تصوف، درویشی اور دینی خدمت ان کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا جبکہ جامع مسجد کے مدرسے میں قرآنِ کریم کی تعلیم بھی دیتے تھے۔

1886 -1987

حیدرآباد کے صاحبِ ذوق شاعر اور سرکاری افسر تھے، حضرت سید محمد بادشاہ محی الدین وجودی کے مرید تھے اور روحانی شاعری کے لیے شہرت رکھتے تھے۔

1958 -2025

بدایوں کے ممتاز نعت گو شاعر، ادیب اور معلم تھے، نعت، غزل اور نظم میں نمایاں خدمات انجام دیں جبکہ ان کی اہم تصانیف ’’محسنِ کونین‘‘، ’’انوارِ کربلا‘‘ اور ’’زادِ آخرت‘‘ ہیں۔ 2025ء میں ان کا انتقال ہوا۔

1932 -1981

اردو کے صاحبِ طرز شاعر تھے، علم و ادب سے گہری وابستگی کے باعث انہوں نے شاعری میں نمایاں مقام حاصل کیا۔

1901 -1983

اردو کے صوفی منش شاعر تھے، حکیم افتخار علی صدیقی بسوانی کے شاگرد اور حاجی وارث علی کے عقیدت مند تھے، سادگی، روحانیت اور غزل گوئی ان کی شاعری کے نمایاں اوصاف تھے۔

1883 -1935

حافظ شاہ علی انور قلندر کاکوروی کے مرید و مسترشد

1908 -1989

اردو کے شاعر، ادیب، صحافی اور ناشر تھے، غزل، نظم، رباعی اور قصیدہ سمیت مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی اور نو شعری مجموعے شائع کیے جن میں دو نعتیہ مجموعے بھی شامل ہیں، انہوں نے ماہنامہ ’’غریب‘‘ جاری کیا، ادبی جریدہ ’’لہریں‘‘ کی ادارت کی اور تاج پرنٹنگ پریس کے ذریعے علمی و ادبی خدمات انجام دیں۔

جنابحضور شاہ امین احمد بہاری کے صاحبزادے

1935

اردو کے ممتاز شاعر اور گیت کار تھے، غزل ان کی بنیادی صنفِ سخن تھی، تاہم نظم، قطعہ اور گیت بھی کہے، ان کے معروف شعری مجموعے ’’حرفِ نوا‘‘ اور ’’موجِ صبا‘‘ ہیں۔

صفی پور کے اردو و فارسی کے صاحبِ طرز شاعر تھے، تصوف سے گہری وابستگی رکھتے تھے اور مخدوم خادم صفی کے مرید تھے، ان کا شعری مجموعہ ’’خیابانِ خلیل‘‘ اردو اور فارسی غزلیات پر مشتمل ہے۔

کراچی کے عظیم شاعر

1748 -1826

خواجہ ضیاؤالدین کے صحبت یافتہ اور شاہ نصیر دہلوی کے شاگرد رشید

ڈھاکہ کے رئیسِ اعظم اور داغؔ دہلوی کے شاگرد رشید

1778 -1846

انیسویں صدی کی اردو غزل کا روشن ستارہ

1715 -1788

عظیم آباد کے ممتاز صوفی شاعر اور بارگاہ حضرت عشق کے روح رواں

خانقاہ ناصریہ، بریلی کے نائب سجادہ نشیں

1996

خانقاہ ناصریہ، سہارن پور کے چشم و چراغ

1884 -1944

مولانا اشرف علی تھانوی کے مرید و خلیفہ

خواجہ امجد حسین نقشبندی کے صاحبزادے بطور صوفی شاعر اپنے میں کافی مقبول تھے، آپ کے عقیدت مندوں کی تعداد ڈھاکہ میں کافی ہوئی۔

1735 -1794

خواجہ میر درد کے چھوٹے بھائی

1721 -1785

صوفی شاعر، ہندوستانی موسیقی کے گہرے علم کے لئے مشہور

چودھویں صدی ہجری کے مقبول صوفی شاعر، آپ کی درگاہ بریلی شہر کے نومحلہ میں واقع ہے۔

-1977

درگاہ خواجہ خانون، گوالیار کے گدی نشیں اور وہاں کے معروف صوفی شاعر

1862 -1942

علی گڑھ کے ممتاز شاعر تھے، جنہوں نے غزل، نظم، قصیدہ، رباعی، سلام اور سہرا میں طبع آزمائی کی، ان کے کلام کا منتخب مجموعہ 1980ء میں شائع ہوا، جبکہ غزل گوئی ان کی نمایاں ادبی شناخت ہے۔

1917

اردو کے شاعر اور ادبی کارکن تھے، اردو و فارسی کے علمی ماحول میں تربیت پائی اور مولانا شیخ تصدق حسین سے فیض حاصل کیا، انہوں نے آزادی کی تحریک میں حصہ لیا اور ادبی انجمنوں کے قیام کے ذریعے اردو شاعری کے فروغ میں کردار ادا کیا۔

1879 -1928

صوفی منیری کے چھوٹے صاحبزادے

1905 -1976

’’آپ کو پاتا نہیں جب آپ کو پاتا ہوں میں‘‘ لکھنے والے شاعر

1966

اسلامیہ انٹر کالج، شاہ جہان آباد کے مدرس اور شاغل وجدانی کے شاگرد

1840

اردو کے ممتاز نعت گو شاعر تھے، ان کے کلام میں عشقِ رسول، سوز و گداز اور سادگیِ بیان نمایاں ہے۔

1851 -1915

حضرت علی سجاد بن شاہ نعمت اللہ پھلواروی کے فرزند، صاحبِ علم صوفی شاعر اور اپنی غزل "اگر اس بارگاہِ پاک میں تیرا گزر ہووے" کے لیے مشہور۔

1915 -1992

شاہ زید ابوالحسن نقشبندی دہلوی کے مرید اور ’’ساز و نغمہ‘‘ اور ’’چراغ حرم‘‘ کے شاعر

بولیے