Sufinama

45۔ ایک شخص کا شیخ ابو الحسن خرقانی کی زیارت کو آنا اور ان کی بیوی کی بدزبانی(دفترِ_ششم)

مولانا رومی

45۔ ایک شخص کا شیخ ابو الحسن خرقانی کی زیارت کو آنا اور ان کی بیوی کی بدزبانی(دفترِ_ششم)

مولانا رومی

MORE BYمولانا رومی

    INTERESTING FACT

    ترجمہ: مرزا نظام شاہ لبیب

    شہر طالقان سے ایک فقیرخرقان کو حضرت شیخ ابوالحسن کی شہرت سن کرگیا ۔ بڑےپہاڑ اور جنگلوں کو ڈکر کے حضرت شیخ کے دیکھنے کو حاضر ہوا۔ جب منزلِ مقصود تک پہنچا تو حضرت کا مکان ڈھونڈ کر پہنچا۔ بڑے عجز و نیاز کے ساتھ اس نے کنڈی کھٹکھٹائی تو ایک عورت نے دروازے سے باہر سرنکالا اور پوچھا کہ آپ کس کو بلاتے ہیں۔ اس نے جواب دیا کہ میں حضرت شاہ! ابوالحسن کی قدم بوسی کوحاضر ہوا ہوں۔ اس عورت نے ایک فرمایشی قہقہہ لگایا اور کہا کہ اس ڈاڑھی پر آخ تھو ہے۔ اتنا بڑا سفر کر کے یہاں تک پہنچا ہے۔ کیا تجھےاپنے وطن میں کوئی اور کام نہ تھا۔ یا تودیوانہ ہے یا غالباً شیطان نے تجھے بہکایا ہے۔ الغرض اس عورت نے بہت سی نامناسب باتیں کہیں جن کو میں یہاں بیان نہیں کرسکتا۔ اس کے آوازوں سے وہ مرید بڑے رنج اور پریشانی میں پڑ گیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے مگر پھر پوچھا کہ خیر یہ تو سب سہی مگر وہ بادشاہ ہیں کہاں؟ اس عورت نے کہا کہ وہ دھوکے باز نرا بہروپیا، بے وقوفوں کا جال اور گمراہی کی کمند ہے اگر تو اس سے نہ ملے اور صحیح سلامت واپس ہوجائے تو بہتر ہے کہیں تو بھی اس کے چکّر میں نہ پھنس جائے۔ ایسا بڑبولا، خوشامدی اور مفت خورا ہے کہ ساے ملک میں شہرت ہوگئی ہے۔ اس قوم کے لوگ سبطی اور گوسالہ پرست ہیں جو ایسی گائے کو پچکارتے اور اس کی خدمت کرتے ہیں۔ افسوس کہ موسیٰ کے امتّی تو اب تک گوسالہ پرستوں کو قتل کریں اور ان مسلمانوں کا یہ حال ہوجائے۔ پیغمبر اور آپ کے اصحاب کا طریق کہاں رہا۔ وہ نماز میں اذکار واشغال اور آدابِ عبادت کدھر گئے۔ ان لوگوں نے شریعت اور خوفِ خدا کو پیچھے ڈال دیا۔ حضرت عمر کہاں رہے کہ سختی سے امرِ معروف کرتے۔ یہ بد زبانی سن کر اس معتقد کو بہت غصّہ آیا اور اس نے بھی عورت کو خوب صلواتیں سنائیں اور اس کے بعد وہاں سے نکل کر ایک ایک سے پوچھتا پھرا کہ حضرتِ شیخ کہاں ہیں؟ ایک شخص نے خبر دی کہ وہ قطبِ زمانہ پہاڑیوں کی طرف جلانے کی لکڑی لانے گئے ہیں۔ وہ مسافر شیخ کے شوقِ نیاز میں سیدھا ادھر ہی روانہ ہوا۔ آدمی کے ہوش وحواس کے آگے شیطان وسوسہ لایا کرتا ہے جس سے چاند گرد میں چھپ جاتا ہے۔ چنانچہ راستہ چلتے چلتے اسے بھی یہ وسوسہ آیا کہ حضرت شیخ ایسی عورت کو اپنے گھر میں کیوں رکھ چھوڑا ہے۔ دو ضدوں میں باہم دگر محبّت کیسے ہوسکتی ہے اور ایسے امامِ زمانہ کے ساتھ بھی یہ شیطان موجود ہے ۔ آخرکیا معاملہ ہے؟ پھر وہ لاحول پڑھتا اور اپنے جی میں کہتا کہ شیخ پر اعتراض کرنا بہت برا ہے۔ غرض اسی الجھن میں گرفتار چلاجارہاتھا کہ اس نے دیکھا کہ شیخ نام دار ایک شیر پر سوار چلے آرہے ہیں۔ شیر پر لکڑیاں لدی تھیں اور لکڑیوں پر آپ بیٹھے تھے۔ ہاتھ میں ایک سانپ بطور تازیانے کے تھا۔ آپ نے مرید کو دور سے دیکھا اور ہنس کر کہا اے فریب خوردہ اس کی بات نہ مان۔ ان بزرگ نے اس کے نفس کی ادھیڑپن کو پالیا اور تمام احوال ایک ایک کر کے جو کچھ اس پر گزرے تھے سب سنادیے۔اس کے بعد بیوی کی لعنت وملامت کے واقعات حضرت نے خود ہی ارشاد فرمادیئے اور کہا کہ وہ میری بیوی ہے۔ اب تو خیال کر کہ اگر میں ایک عورت کی بدزبانی پر بھی صبر نہ کرسکتا تو یہ شیرِ نر میری بیگار کیسے اٹھاتا۔

    مآخذ :
    • کتاب : حکایات رومی حصہ اول (Pg. 212)
    • مطبع : انجمن ترقی اردو (ہند) (1945)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY