Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

لطف ان کا عام ہو ہی جائے گا

احمد رضا خاں

لطف ان کا عام ہو ہی جائے گا

احمد رضا خاں

MORE BYاحمد رضا خاں

    لطف ان کا عام ہو ہی جائے گا

    شاد ہر ناکام ہو ہی جائے گا

    جان دے دو وعدۂ دیدار پر

    نقد اپنا دام ہو ہی جائے گا

    شاد ہے فردوس یعنی ایک دن

    قسمت خدام ہو ہی جائے گا

    بے نشانوں کا نشاں مٹتا نہیں

    مٹتے مٹتے نام ہو ہی جائے گا

    یاد گیسو ذکر حق ہے آہ کر

    دل میں پیدا لام ہو ہی جائے گا

    ایک دن آواز بدلیں گے یہ ساز

    چہچہا کہرام ہو ہی جائے گا

    سائلو دامن سخی کا تھام لو

    کچھ نہ کچھ انعام ہو ہی جائے گا

    یاد ابرو کر کے تڑپو بلبلو

    ٹکڑے ٹکڑے دام ہو ہی جائے گا

    مفلسو ان کی گلی میں جا پڑو

    باغ خلد اکرام ہو ہی جائے گا

    گر یوں ہی رحمت کی تاویلیں رہیں

    مدح ہر الزام ہو ہی جائے گا

    بادہ خواری کا سماں بندھنے تو دو

    شیخ درد آشام ہو ہی جائے گا

    غم تو ان کو بھول کر لپٹا ہے یوں

    جیسے اپنا کام ہو ہی جائے گا

    مٹ کہ گر یونہی رہا قرض حیات

    جان کا نیلام ہو ہی جائے گا

    اب تو لائی ہے شفاعت عفو پر

    بڑھتے بڑھتے عام ہو ہی جائے گا

    اے رضاؔ ہر کام کا ایک وقت ہے

    دل کو بھی آرام ہو ہی جائے گا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے