Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

آنکھوں میں مل رہا ہوں غبارِ سحر کو میں

امیر بخش صابری

آنکھوں میں مل رہا ہوں غبارِ سحر کو میں

امیر بخش صابری

آنکھوں میں مل رہا ہوں غبارِ سحر کو میں

اشکوں سے دھو رہا ہوں تری رہ گذر کو میں

چشمِ زدن میں جو میری دنیا بدل گئی

بھولا نہیں ہوں اس تری پہلی نظر کو میں

ایسا تلاشِ یار میں گم ہو گیا ہوں میں

آؤں گا اب نظر کسی اہلِ نظر کو میں

چوکھٹ پہ تیری کیوں نہ جھکاؤں سرِ نیاز

کعبہ سمجھ رہا ہوں ترے سنگِ در کو میں

جس نے ہے مجھ کو دردِ محبت عطا کیا

مدت سے ڈھونڈھتا ہوں اسی چارہ گر کو میں

مانا بہت کٹھن ہیں محبت کی منزلیں

کر لوں گا ان کے لطف سے طے اس سفر کو میں

جب سے امیرِؔ صابری دیکھی ہے ان کی شان

اب اور کچھ سمجھتا ہوں شانِ بشر کو میں

مأخذ :
  • کتاب : Kalaam-e-Ameer Sabri (Pg. 58)

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY
بولیے