عشق کا فرض کچھ اس طرح ادا ہوتا ہے
عشق کا فرض کچھ اس طرح ادا ہوتا ہے
ہر نفس معرکہ کرب و بلا ہوتا ہے
زاہدوں کی یہ نمازی بھی بجا ہیں لیکن
سجدۂ عشق تہِ تیغ ادا ہوتا ہے
میری تقصیر ہے یا میرے کماں والے کی
نگہِ ناز کا کیوں تیر خطا ہوتا ہے
اپنی رسموں پہ نہ کر شرع محبت کا قیاس
دوستی کے لیے دستور جدا ہوتا ہے
حسنِ معصوم میں اس تیری کرامت کے نثار
لب پہ جو نالہ پہنچتا ہے دعا ہوتا ہے
لالہ و گل کے جگر چاک ہوئے جاتے ہیں
کون گلشن میں یہ سرگرمِ نوا ہوتا ہے
اپنی محرومیِ قسمت پہ ہوں نازاں کوثرؔ
دلِ صد پارہ میں کہتے ہیں خدا ہوتا ہے
- کتاب : کلام کوثر نیازی (Pg. 55)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.