Font by Mehr Nastaliq Web

عشق کا فرض کچھ اس طرح ادا ہوتا ہے

کوثر نیازی

عشق کا فرض کچھ اس طرح ادا ہوتا ہے

کوثر نیازی

MORE BYکوثر نیازی

    عشق کا فرض کچھ اس طرح ادا ہوتا ہے

    ہر نفس معرکہ کرب و بلا ہوتا ہے

    زاہدوں کی یہ نمازی بھی بجا ہیں لیکن

    سجدۂ عشق تہِ تیغ ادا ہوتا ہے

    میری تقصیر ہے یا میرے کماں والے کی

    نگہِ ناز کا کیوں تیر خطا ہوتا ہے

    اپنی رسموں پہ نہ کر شرع محبت کا قیاس

    دوستی کے لیے دستور جدا ہوتا ہے

    حسنِ معصوم میں اس تیری کرامت کے نثار

    لب پہ جو نالہ پہنچتا ہے دعا ہوتا ہے

    لالہ و گل کے جگر چاک ہوئے جاتے ہیں

    کون گلشن میں یہ سرگرمِ نوا ہوتا ہے

    اپنی محرومیِ قسمت پہ ہوں نازاں کوثرؔ

    دلِ صد پارہ میں کہتے ہیں خدا ہوتا ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    منظور عالم نیازی

    منظور عالم نیازی

    مأخذ :
    • کتاب : کلام کوثر نیازی (Pg. 55)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے