Font by Mehr Nastaliq Web

تیری نظر جو اٹھی زلفِ کیف سلجھانے

کوثر نیازی

تیری نظر جو اٹھی زلفِ کیف سلجھانے

کوثر نیازی

MORE BYکوثر نیازی

    تیری نظر جو اٹھی زلفِ کیف سلجھانے

    برس پڑے سرِ محفل ہزار میخانے

    طہور و خور کی اس کو فقط تمنا ہے

    فقیہِ شہر عبادت کی روح کیا جانے

    عجب نہیں کہ بالآخر قبول ہو جائیں

    ترے حضور مرے آنسوؤں کے نذرانے

    نہ مدرسہ میں تفقہ نہ خانقاہ میں سوز

    عذر کہ صوفی و ملا ہیں دیں سے بیگانے

    کبھی جو سوئے حرم دیکھنے نہیں دیتے

    کسی کی آنکھ کے ڈوروں میں ہیں وہ بت خانے

    کشاکشِ خس و دریا ہے دیدنی کوثرؔ

    الجھ رہے ہیں زمانے سے چند دیوانے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    عزیز میاں

    عزیز میاں

    مأخذ :
    • کتاب : زرِ گل (Pg. 163)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے