Font by Mehr Nastaliq Web

حاجت ہے میکدہ کی نہ مطلوبِ جام ہے

خادم حسن اجمیری

حاجت ہے میکدہ کی نہ مطلوبِ جام ہے

خادم حسن اجمیری

MORE BYخادم حسن اجمیری

    حاجت ہے میکدہ کی نہ مطلوبِ جام ہے

    میکش کو تیری مست نگاہوں سے کام ہے

    دونوں جہاں کو چھوڑ دیا تیرے عشق میں

    شیدائیوں کو تیرے فقط تجھ سے کام ہے

    تو اپنی ٹھوکروں میں پڑا رہنے دے یہ سر

    جائے کہاں ازل سے تو تیرا غلام ہے

    مجھ پہ بھی اک نگاہِ کرم بھر کبریا

    خواجہ جہاں میں آپ کا فیضانِ عام ہے

    دونوں جہاں میں اس کے لیے کچھ کمی نہیں

    جو خواجگانِ چشت کا خادمؔ غلام ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نا معلوم

    نا معلوم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے