حاجت ہے میکدہ کی نہ مطلوبِ جام ہے
حاجت ہے میکدہ کی نہ مطلوبِ جام ہے
میکش کو تیری مست نگاہوں سے کام ہے
دونوں جہاں کو چھوڑ دیا تیرے عشق میں
شیدائیوں کو تیرے فقط تجھ سے کام ہے
تو اپنی ٹھوکروں میں پڑا رہنے دے یہ سر
جائے کہاں ازل سے تو تیرا غلام ہے
مجھ پہ بھی اک نگاہِ کرم بھر کبریا
خواجہ جہاں میں آپ کا فیضانِ عام ہے
دونوں جہاں میں اس کے لیے کچھ کمی نہیں
جو خواجگانِ چشت کا خادمؔ غلام ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.