ہم شکوہ کرنا کیا جانیں ہم ناز اٹھانے والے ہیں
ہم شکوہ کرنا کیا جانیں ہم ناز اٹھانے والے ہیں
ہر ناز پہ قرباں ہو ہو کر ہستی کو مٹانے والے ہیں
وہ مذہب و ملت کیا جانیں وہ دیر و حرم کو کیا مانیں
جو نقشِ قدم ہر جاناں کے سر اپنا جھکانے والے ہیں
کیوں اور کے در پر سر رکھ کر معروضہ اپنا پیش کروں
جب خواجۂ عالم اجمیری ہر کام بنانے والے ہیں
بچھتی ہے خدائی اے خادم ان دیوانوں کی راہوں میں
جو راہِ محبت میں اپنی آنکھوں کو بچھانے والے ہیں
آدابِ محبت کہتے ہیں یوں چشمِ تمنا سے خادمؔ
جھک جائے نظر سجدے کے لیے وہ جلوہ دکھانے والے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.