Font by Mehr Nastaliq Web

ہم شکوہ کرنا کیا جانیں ہم ناز اٹھانے والے ہیں

خادم حسن اجمیری

ہم شکوہ کرنا کیا جانیں ہم ناز اٹھانے والے ہیں

خادم حسن اجمیری

MORE BYخادم حسن اجمیری

    ہم شکوہ کرنا کیا جانیں ہم ناز اٹھانے والے ہیں

    ہر ناز پہ قرباں ہو ہو کر ہستی کو مٹانے والے ہیں

    وہ مذہب و ملت کیا جانیں وہ دیر و حرم کو کیا مانیں

    جو نقشِ قدم ہر جاناں کے سر اپنا جھکانے والے ہیں

    کیوں اور کے در پر سر رکھ کر معروضہ اپنا پیش کروں

    جب خواجۂ عالم اجمیری ہر کام بنانے والے ہیں

    بچھتی ہے خدائی اے خادم ان دیوانوں کی راہوں میں

    جو راہِ محبت میں اپنی آنکھوں کو بچھانے والے ہیں

    آدابِ محبت کہتے ہیں یوں چشمِ تمنا سے خادمؔ

    جھک جائے نظر سجدے کے لیے وہ جلوہ دکھانے والے ہیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نا معلوم

    نا معلوم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے