Sufinama

خیال کر کے جو میں نے دیکھا اسی کی صورت چمک رہی ہے

اوگھٹ شاہ وارثی

خیال کر کے جو میں نے دیکھا اسی کی صورت چمک رہی ہے

اوگھٹ شاہ وارثی

MORE BY اوگھٹ شاہ وارثی

    خیال کر کے جو میں نے دیکھا اسی کی صورت چمک رہی ہے

    اسی کا نقشہ ہے چار جانب اسی کی رنگت دمک رہی ہے

    تمہارے فیض قدم سے جانا ہوا ہے سرسبز باغ عالم

    تمام اس گلشن جہاں میں تمہاری خوشبو مہک رہی ہے

    نہ درد جائے گا چارہ سازو عبث تمہاری ہے فکر و کوشش

    کسی حسیں کی یہ نوک مژگاں ہمارے دل میں کھٹک رہی ہے

    یہ باغ عالم میں رنگ دیکھا کوئی ہے غمگیں کوئی ہے خنداں

    کہیں ہے شوروفغاں کہیں پہ بلبل چہک رہی ہے

    عجب طرح کی یہ کشمکش ہے کہ ہم کو ہے انتظار جاناں

    کمر کو باندھو اٹھاؤ بستر اجل سرہانے یہ بک رہی ہے

    بسی گلوں میں اسی کی بو ہے پری وشوں میں اسی کی خو ہے

    بتوں کے پردے میں دیکھ اوگھٹؔ اسی کی صورت جھلک رہی ہے

    مآخذ:

    • Book : فیضان وارثی المعروف زمزمۂ قوالی (Pg. 2)
    • Author : اوگھٹ شاہ وارثی
    • مطبع : جید برقی پریس، دہلی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY