حرم کے گوشۂ خلوت سے تابدار آئے
حرم کے گوشۂ خلوت سے تابدار آئے
کہاں کہاں تجھے اہلِ جنوں پکار آئے
عروسِ دہر سنا ہے کہ چند دیوانے
لہو کے عطر سے گیسو تیرے سنوار آئے
حیاتِ خضر بھی ان کے عوض نہیں منظور
وہ چند روز جو زنداں میں ہم گزار آئے
قفس میں رہ کے بھی دل سے نہ جا سکی کوثرؔ
یہ آرزو کہ چمن میں کبھی بہار آئے
- کتاب : زرِ گل (Pg. 123)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.