Font by Mehr Nastaliq Web

میں مریضِ عشق ہوں میری دوا پردے میں ہو

نا معلوم

میں مریضِ عشق ہوں میری دوا پردے میں ہو

نا معلوم

MORE BYنا معلوم

    میں مریضِ عشق ہوں میری دوا پردے میں ہو

    نامراد وصل ہوں میری دوا پردے میں ہو

    دم جو نکلے یا الٰہی میکدے کے سامنے

    ہاتھ میں ساغر رہے ساقی مرا پردے میں ہو

    موت گر آئے الٰہی آئے ہجر یار میں

    شور ہو بازار میں فاتحہ پردے میں ہو

    کیا اسی کو کہتے ہیں رسمِ محبت کہہ تو دو

    ٹھوکریں کھاتا پھروں تو بے وفا پردے میں ہو

    حسن تیرا تو ڈھل گیا لیکن نزاکت ہے وہی

    یا الہٰی میرا اُن کا فیصلہ پردے میں ہو

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے