میں مریضِ عشق ہوں میری دوا پردے میں ہو
میں مریضِ عشق ہوں میری دوا پردے میں ہو
نامراد وصل ہوں میری دوا پردے میں ہو
دم جو نکلے یا الٰہی میکدے کے سامنے
ہاتھ میں ساغر رہے ساقی مرا پردے میں ہو
موت گر آئے الٰہی آئے ہجر یار میں
شور ہو بازار میں فاتحہ پردے میں ہو
کیا اسی کو کہتے ہیں رسمِ محبت کہہ تو دو
ٹھوکریں کھاتا پھروں تو بے وفا پردے میں ہو
حسن تیرا تو ڈھل گیا لیکن نزاکت ہے وہی
یا الہٰی میرا اُن کا فیصلہ پردے میں ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.