کلام
صوفیائے کرام کے لکھے ہوئے زیادہ تر اشعار کلام کے زمرے میں ہی آتا ہے اور اسے محفل سماع کے دوران بھی گایا جاتا ہے۔
حضرت شاہ اکبر داناپوری کے ممتاز مرید و خلیفہ اور الہ آباد میں سلسلۂ ابوالعلائیہ کے متحرک صوفی بزرگ۔
سلسلۂ وارثیہ کے بانی، وسیع المشرب صوفی بزرگ اور دیویٰ شریف کے روحانی پیشوا تھے۔
مجاہد آزادی اور آئین ساز اسمبلی کے رکن ، ’انقلاب زندہ باد‘ کا نعرہ دیا ، شری کرشن کے معتقد ، اپنی غزل ’ چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے‘ کے لئے مشہور
معروف عالم دین اور کامیاب شاعر تھے، وہ امام احمد رضا بریلوی کے چھوٹے بھائی تھے۔ ان کی شہرت کا ایک سبب ان کا لکھا ہوا نعتیہ کلام کا گلدستہ "ذوق نعت" بھی ہے۔
حضرت شاہ طالب حسین مجیب کے مرید، ڈاکٹر ذاکر حسین کے قریبی رفیق، تحریکِ آزادی کے مجاہد اور ممتاز شاعر و صحافی تھے۔
اردو کے ممتاز غزل گو شاعر، طنز و مزاح نگار اور حفیظ جالندھری کے شاگرد تھے، "کفر و ایمان" ان کے کلام کا معروف مجموعہ ہے جو ان کے انتقال کے بعد شائع ہوا۔