Font by Mehr Nastaliq Web

کلام

صوفیائے کرام کے لکھے ہوئے زیادہ تر اشعار کلام کے زمرے میں ہی آتا ہے اور اسے محفل سماع کے دوران بھی گایا جاتا ہے۔

1790 -1854

آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے استاد اور ملک الشعرا۔ غالب کے ساتھ ان کی رقابت مشہور ہے

آستانۂ قدیری، ہلکتہ کے سجادہ نشیں اور حضرت قدیراللہ کے صاحبزادے

1927 -1978

اردو کے ممتاز شاعر، مزاح نگار، سفرنامہ نگار اور مترجم تھے، "اردو کی آخری کتاب"، "چاند نگر" اور "آوارہ گرد کی ڈائری" ان کی نمایاں تصانیف ہیں جبکہ "انشا جی اٹھو اب کوچ کرو" اور "کل چودھویں کی رات تھی" ان کی لازوال غزلوں میں شمار ہوتی ہیں۔

1880 -1945

کلکتہ کے ممتاز صوفی بزرگ، عالم، شاعر اور مصنف تھے، تصوف، اصلاحِ باطن اور دینی موضوعات پر ان کی متعدد تصانیف ہیں جن میں ’’رشدِ رشیدی حقیقی‘‘، ’’سیف المعرفت‘‘، ’’حقیقتِ بیعت‘‘ اور ’’جوازِ تعزیہ‘‘ نمایاں ہیں۔

1921 -1999

ممتاز غزل گو اور نعت گو شاعر تھے، آپ نے افقر موہانی، اثر لکھنوی اور جگر مرادآبادی سے اصلاحِ سخن حاصل کی، قیامِ پاکستان کے بعد لاہور اور کراچی میں ملازمت کی، شاخِ گل، رنگ و نور اور رحمت لقب آپ کا شعری مجموعہ ہے، اپنی غزل "دل پہ زخم کھاتے ہیں جان سے گزرتے ہیں" کے لیے مشہور۔

1913 -2000

ممتاز شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم تھے، وہ ڈھاکہ اور چٹاگانگ کالج میں شعبۂ اردو کے صدر رہے اور اردو زبان و ادب کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا، ان کے معروف شعری مجموعوں میں سات ستارے، چراغِ آخرِ شب، محاصل اور فاصلوں کو تکلف شامل ہیں۔

1981

خانقاہ امجدیہ، سیوان کے چشم و چراغ اور معروف تظمین نگار

1772 -1838

دبستان لکھنؤ کے ممتاز شاعر

1849 -1934

اردو کے ممتاز شاعر، نقاد اور شمس العلما کے خطاب سے سرفراز ادیب تھے، آپ کی سب سے معروف تصنیف "کاشف الحقائق" اردو تنقید کی اہم اور ابتدائی کتابوں میں شمار ہوتی ہے، اردو، فارسی، عربی اور انگریزی پر عبور کے باعث آپ کی تنقید علمی گہرائی، استدلال اور فکری توازن کی آئینہ دار ہے۔

1839 -1901

حیدرآباد کے معروف صوفی شاعر

1753 -1817

لکھنو کے سب سے گرم مزاج شاعر، میر تقی میر کے ہم عصر اور مصحفی کے ساتھ چشمک کے لیے مشہور

بولیے