کلام
صوفیائے کرام کے لکھے ہوئے زیادہ تر اشعار کلام کے زمرے میں ہی آتا ہے اور اسے محفل سماع کے دوران بھی گایا جاتا ہے۔
آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے استاد اور ملک الشعرا۔ غالب کے ساتھ ان کی رقابت مشہور ہے
کلکتہ کے ممتاز صوفی بزرگ، عالم، شاعر اور مصنف تھے، تصوف، اصلاحِ باطن اور دینی موضوعات پر ان کی متعدد تصانیف ہیں جن میں ’’رشدِ رشیدی حقیقی‘‘، ’’سیف المعرفت‘‘، ’’حقیقتِ بیعت‘‘ اور ’’جوازِ تعزیہ‘‘ نمایاں ہیں۔
ممتاز غزل گو اور نعت گو شاعر تھے، آپ نے افقر موہانی، اثر لکھنوی اور جگر مرادآبادی سے اصلاحِ سخن حاصل کی، قیامِ پاکستان کے بعد لاہور اور کراچی میں ملازمت کی، شاخِ گل، رنگ و نور اور رحمت لقب آپ کا شعری مجموعہ ہے، اپنی غزل "دل پہ زخم کھاتے ہیں جان سے گزرتے ہیں" کے لیے مشہور۔
ممتاز شاعر، ادیب اور ماہرِ تعلیم تھے، وہ ڈھاکہ اور چٹاگانگ کالج میں شعبۂ اردو کے صدر رہے اور اردو زبان و ادب کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا، ان کے معروف شعری مجموعوں میں سات ستارے، چراغِ آخرِ شب، محاصل اور فاصلوں کو تکلف شامل ہیں۔
اردو کے ممتاز شاعر، نقاد اور شمس العلما کے خطاب سے سرفراز ادیب تھے، آپ کی سب سے معروف تصنیف "کاشف الحقائق" اردو تنقید کی اہم اور ابتدائی کتابوں میں شمار ہوتی ہے، اردو، فارسی، عربی اور انگریزی پر عبور کے باعث آپ کی تنقید علمی گہرائی، استدلال اور فکری توازن کی آئینہ دار ہے۔
لکھنو کے سب سے گرم مزاج شاعر، میر تقی میر کے ہم عصر اور مصحفی کے ساتھ چشمک کے لیے مشہور