کلام
صوفیائے کرام کے لکھے ہوئے زیادہ تر اشعار کلام کے زمرے میں ہی آتا ہے اور اسے محفل سماع کے دوران بھی گایا جاتا ہے۔
اردو کے ممتاز محقق، نقاد، شاعر اور ماہرِ دکنی ادب تھے، "شعلۂ تشنگی" اور "ایک تبسم ایک نظر" ان کے اہم شعری مجموعے ہیں جبکہ دکنی ادب کی تحقیق و تدوین میں ان کی خدمات نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔
ممتاز ترین قبل ازجدید شاعروں میں نمایاں، بے پناہ مقبولیت کے لیے معروف
اردو کے ممتاز شاعر، ادیب، قواعد داں اور لغت نگار تھے، ابتدا میں لکھنؤ اور بعد ازاں ریاستِ رام پور سے وابستہ رہے، جہاں ان کی علمی و ادبی خدمات کو خاص پذیرائی ملی، شاعری کے ساتھ ساتھ انہوں نے اردو زبان، عروض اور قواعد پر بھی اہم کام کیا اور متعدد دیوان، لغات اور علمی رسائل تصنیف کیے۔
مقبول ترین مابعد کلاسیکی شاعروں میں نمایاں۔ امیر مینائی کے شاگرد۔ داغ دہلوی کے بعد حیدرآباد کے ملک الشعراء
اردو کے ممتاز کلاسیکی شاعر اور استادِ سخن تھے، امیر مینائی کے شاگرد رہے اور بعد میں دکن کے دربار سے وابستہ ہوئے جہاں "فصاحت جنگ" کا خطاب پایا، ان کے تین دیوان "تاجِ سخن"، "سخن" اور "روحِ سخن" خاص شہرت رکھتے ہیں۔